ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی نے مرنے والوں کی لسٹ سے زندہ اشوک پجاری کا نام خارج کردیا

بی جے پی نے مرنے والوں کی لسٹ سے زندہ اشوک پجاری کا نام خارج کردیا

Mon, 07 May 2018 00:22:34    S.O. News Service

بنگلورو ،06؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جانب سے اپنے 23کارکنوں کی موت کو بڑا مسئلہ بنانے کی خبرپر بی جے پی نے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ سال جولائی میں ہی ایم ایچ اے کو صفائی دی تھی کہ اشوک پجاری کا نام مردہ لوگوں کی فہرست سے ہٹا کر زخمی لوگوں کی لسٹ میں ڈال دیا تھا۔نئی فہرست کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی فہرست میں اب 20 نام رہ گئے ہیں۔

آپکو بتا دیں کہ بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ کانگریس کے پانچ سالہ  دور حکومت میں جہادی فورسز نے ان کی پارٹی کے 23 کارکنوں کا قتل کیا ۔اس معاملے میں اڈپی سے بی جے پی کی رہنما شوبھا کرندلاجے نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر ان 23 لوگوں کے نام بھیجے تھے جن کاکرناٹک میں قتل کیا گیا ہے۔ بی جے پی کی اس لسٹ میں سب سے پہلا نام اشوک پجاری کاتھا، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس کا قتل20 ستمبر 2015 کو کیا گیاتھا۔لیکن پجاری آج بھی زندہ ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ان پر 2015 میں چھ افراد نے حملہ کیا تھا جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔انہوں نے پجاری پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ وہ ہندوتوادی تنظیم سے منسلک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ان کی شناخت ان کے سر پر بندھے ہوئے بھگوا کپڑے سے کی گئی تھی  جب وہ کام سے گھر واپس آ رہا تھا۔ پجاری  شادیوں میں ڈھول بجانے کا کام کرتا ہے۔پجاری  نے بتایا کہ میں 15 دن تک آئی سی یو میں رہا لیکن بھگوان کا شکر ہے کہ میں بچ گیا اور مجھے کچھ نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ شوبھا کرندلاجے نے انہیں فون کرکے تسلیم کیا تھا کہ غلطی سے اس کا نام مرنے والوں کی لسٹ میں چلا گیا۔ مگر گزشتہ روز این ڈی ٹی وی نے پجاری سے ملاقات کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کر دیا کہ پجاری آ ج بھی زندہ ہے۔


Share: